پاکستان میں تانبے اور سونے کی تلاش میں مصروف کینیڈا کی کمپنی کو عالمی بینک کے نجی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن نے 30 کروڑ ڈالر قرض دینے کا فیصلہ کیا ہے۔۔
ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ریکوڈک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ بیرک گولڈ کے تانبے اور سونے کے منصوبے کے لیے بین الاقوامی قرض دہندگان سے 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی فنانسنگ حاصل کی جائے گی، اور اس کے لیے ابتدائی تیسری سہ ماہی تک ٹرم شیٹس پر دستخط ہو جائیں گے۔
ریکوڈک کی کان دنیا کے سب سے وسیع تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے ایک ہے، یہ فنڈنگ ریکوڈک کان کی ترقی میں معاون ہوگی، اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ 70 ارب ڈالر کا فری کیش فلو اور 90 ارب ڈالر کا آپریٹنگ کیش فلو پیدا کرے گی۔
بیرک گولڈ اور وفاقی اور بلوچستان حکومتیں اس منصوبے کی مشترکہ مالک ہیں، منصوبے کے پہلے مرحلے، جس سے 2028 میں پیداوار شروع ہونے ہونے کا امکان ہے، کے لیے فنانسنگ پر متعدد قرض دہندگان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 میں رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ریکو ڈِک کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹم کرِب نے کہا کہ وہ منصوبے کے لیے آئی ایف سی اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن سے 65 کروڑ ڈالر کی توقع کر رہے ہیں۔
ٹم کِرِب نے مزید کہا کہ منصو بے کے لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ساتھ 50 کروڑ ڈالر سے 1 ارب ڈالر کی فنانسنگ کے لیے بھی بات چیت جاری ہے، اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ کینیڈا اور جاپان بینک فار انٹرنیشنل کوآپریشن سمیت ترقیاتی مالیاتی اداروں سے 50 کروڑ ڈالر کی فنانسنگ پر بھی بات چیت جاری ہے۔
ٹم کِرِب نے کہا،’ہمیں توقع ہے کہ ہم دوسری سہ ماہی کے آخر یا تیسری سہ ماہی کے اوائل میں ٹرم شیٹ کو حتمی شکل دے دیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ریلوے فنانسنگ کے حوالے سے آئی ایف ایس اور دیگر قرض دہندگان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، اور انفرااسٹرکچر کی لاگت کا تخمینہ 50تا 80 کروڑ ڈالر ہے، جس میں ابتدائی لاگت تقریباً 35 کروڑ ڈالر ہے۔
