سری نگر : دی کشمیر ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) نے پہلگام حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی۔
گروپ کے ٹیلیگرام چینل پر شائع ہونے والے بیان میں مزاحمتی محاذ نے کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد اس کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں سے ایک سے ایک غیر مجاز پیغام پوسٹ کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملے سے قبل بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے ایک سائبر دخل اندازی (ہیکنگ) کی وجہ سے ذمہ داری کے غلط دعوے کا آغاز ہوا، جس نے ایک جدید ترین ڈیجیٹل حملے کی طرف انگلی اٹھائی۔
گروپ نے اعلان کیا ہے کہ خلاف ورزی کے منبع کا پتہ لگانے کے لیے اندرونی تحقیقات جاری ہیں، ابتدائی علامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مداخلت کے پیچھے ہندوستانی ریاست کا ڈیجیٹل اپریٹس تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ کشمیریوں کی مزاحمت کی شبیہ کو خراب کرنے اور خطے میں جاری ظلم و ستم سے توجہ ہٹانے کی بھارت کی طرف سے ایک اور کوشش ہے،”۔
مزاحمتی محاذ نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے سائبر حملے اور اس طرح کی خفیہ کارروائیوں میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ منگل کو جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔