پوپ فرانسس کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پروقار تقریب کے دوران سپرد خاک کر دیا گیا

0


کیتھولک دنیا آج ایک عہد کے اختتام پر سوگوار رہی جب پوپ فرانسس کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ایک پُر وقار اور جذباتی تقریب میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ تقریب میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تقریباً دو لاکھ افراد نے شرکت کی، جن میں عالمی رہنما، معززین اور عام عقیدت مند شامل تھے۔

جنازے کی قیادت کارڈینل جیوانی بٹیسٹا ری نے کی، جنہوں نے مرحوم پوپ کی عاجزی، ہمدردی اور دنیا بھر میں محروم طبقات کے لیے ان کی اٹل حمایت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ کارڈینل ری نے اپنے خطاب میں کہا کہ "پوپ فرانسس نے اپنی زندگی محبت، امن اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔”

تقریب میں کئی ممتاز عالمی رہنما شریک ہوئے، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور برطانوی شاہی خاندان کی جانب سے شہزادہ ولیم شامل تھے۔
ایک اہم پیشرفت میں، ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان تقریب سے قبل ایک مختصر ملاقات بھی ہوئی، جسے بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے "بہت نتیجہ خیز” قرار دیا۔

پوپ فرانسس کی ذاتی خواہش کے مطابق ان کے لکڑی کے سادہ تابوت کو بغیر کسی شاہانہ رسم کے چوک میں لایا گیا۔ جنازے میں خصوصی طور پر پسماندہ گروہوں کے نمائندے — جن میں بے گھر افراد، مہاجرین اور نسلی اقلیتیں شامل تھیں — شریک ہوئے، جو مرحوم پوپ کی تمام انسانوں کے لیے یکساں محبت اور وقار کی پالیسی کی علامت تھے۔

کیتھولک چرچ اب اپنے 266ویں پوپ کے انتقال کے سوگ میں ہے۔ دریں اثنا، ویٹیکن میں نئے پوپ کے انتخاب کے لیے روایتی کنکلیو کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ دنیا بھر سے کارڈینلز ویٹیکن پہنچنا شروع ہو گئے ہیں تاکہ دنیا کے 1.3 ارب کیتھولک افراد کے لیے اگلے روحانی رہنما کا انتخاب کر سکیں۔

پوپ فرانسس اپنی سادہ زندگی، معاشرتی مساوات کی بھرپور وکالت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی آخری رسومات نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے اپنی زندگی حقیقی طور پر ’’سب کے پوپ‘‘ کے طور پر گزاری۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.