جنیوا : امریکا اور چین کے درمیان اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جنیوا میں طے پانے والے اس معاہدے کا اعلان وائٹ ہاؤس نے کیا ہے جس کے مطابق اس معاہدے کی معلومات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی ہیں اور اس کی تفصیلات آج جاری کی جائیں گی۔
وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیے میں امریکی سیکریٹری آف ٹریژری سکاٹ بیسنٹ کابیان موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے امریکا اور چین کے درمیان تہائی اہم تجارتی مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔‘
اپنے بیان میں انھوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی تفصیلات سے پیر کو آگاہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے کے سفیر جیمیسن گریر نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم کتنی جلدی معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شاید اختلافات اتنے بڑے نہیں تھے جتنا اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا۔
جیمینن گریر کے بیان کے مطابق مطابق ’ان دو دنوں میں بہت ساری بنیادیں کام کی گئی ہیں۔ بس یاد رکھیں کہ ہم نے پہلی بار تجارت میں دو ہزار ڈالر کی پہلی پوزیشن کیوں حاصل کی ہے۔‘
ان کے مطابق خسارے کے باعث صدر نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کیا اور محصولات عائد کیے، اور ہمیں یقین ہے کہ ہم نے اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ اس قومی ہنگامی صورتحال کو حل کرنے کے لیے کام کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔
جیمیسن گریر نے کہا،’امریکا اس وقت 1200 بلین ڈالر کے تجارتی خسارے میں ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔‘