اسرائیل نے سیکیورٹی خدشات کے باعث سعودی قیادت میں وزرائے خارجہ کا مغربی کنارے کا دورہ روک دیا
رام اللہ میں فلسطینی ریاست پر مذاکرات مؤخر، اقوام متحدہ کانفرنس سے قبل سفارتی کشیدگی
اسرائیل نے سعودی عرب کی قیادت میں مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کا دورہ کرنے سے روک دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اس فیصلے کی بنیاد سیکورٹی خدشات اور قومی خودمختاری سے متعلق امور پر ہے۔
یہ دورہ اس اتوار کو طے تھا، جس میں وفد نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کرنا تھی تاکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو سفارتی سطح پر آگے بڑھایا جا سکے۔
وفد میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن, قطر اور ترکی کے وزرائے خارجہ شامل ہیںیہ سب وزرائے خارجہ رام اللہ میں مشترکہ اجلاس میں شریک ہونے جا رہے تھے، جس کا مقصد دو ریاستی حل کے لیے علاقائی اتحاد کی تشکیل اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بین الاقوامی حمایت کو مضبوط کرنا تھا
ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا”ہم کسی ایسے عمل میں حصہ نہیں لیں گے یا اسے سہولت فراہم نہیں کریں گے جو ہماری سلامتی یا خودمختاری کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔”اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست سے متعلق بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ پر سخت ردعمل دے رہا ہے۔
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب اگلے ماہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب اور فرانس کی سرپرستی میں ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس متوقع ہے۔ اس کانفرنس کا مرکزی موضوع دو ریاستی حل کی بحالی ہوگا۔
باوثوق ذرائع کے مطابق، فرانس اس موقع پر فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے پر غور کر رہا ہے، جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک اہم سفارتی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔