واشنگٹن / یروشلم — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے "سیاسی انتقام” قرار دیا ہے اور اسرائیلی حکومت سے ان کے لیے صدارتی معافی دینے یا مقدمے کی فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا جبکہ اسرائیلی اراکین پارلیمنٹ اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس بیان کو اسرائیل کی عدالتی خودمختاری میں سنگین مداخلت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل اور جذباتی پوسٹ میں دیا، جس میں انہوں نے نیتن یاہو کو "جنگ کے وقت کا عظیم وزیر اعظم” اور "اسرائیلی ریاست کا ہیرو” قرار دیا۔”یہ مضحکہ خیز وِچ ہنٹ ختم ہونا چاہیے… نیتن یاہو کو معافی دی جانی چاہیے یا ان کا ٹرائل منسوخ کر دیا جانا چاہیے۔” —
بنجمن نیتن یاہو 2019 سے بدعنوانی کے تین الگ الگ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں
- رشوت ستانی
- دھوکہ دہی
- اعتماد کی خلاف ورزی
ان الزامات میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے میڈیا کوریج اور تجارتی فوائد کے عوض کاروباری شخصیات اور میڈیا اداروں سے غیر قانونی فوائد حاصل کیے۔نیتن یاہو ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مقدمات ان کے سیاسی کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔
ٹرمپ کے یہ ریمارکس ایک غیر معمولی امریکی مداخلت کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں کسی امریکی صدر نے ایک اتحادی ملک کے عدالتی نظام پر براہ راست اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہو۔
انہوں نے کہا”یہ امریکہ ہی تھا جس نے اسرائیل کو بچایا تھا، اور اب یہ امریکہ ہی نیتن یاہو کو بھی بچائے گا۔ اس ‘انصاف’ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
اسرائیلی پارلیمنٹ کے سینئر ارکان اور کئی سابق وزراء نے ٹرمپ کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی آزاد عدلیہ پر حملہ قرار دیا۔ حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپید نے کہا”ہم کسی غیر ملکی رہنما کو اپنی عدالتوں کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، چاہے وہ امریکہ کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔”
کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے بعض ارکان نے پارلیمانی اجلاس میں ٹرمپ کے بیان پر تحفظات کا اظہار کیا، اور زور دیا کہ اسرائیلی عدلیہ قانون کی حکمرانی کے اصول پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
