واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک کی جانب سے نئی سیاسی جماعت بنانے کے اعلان کو "مضحکہ خیز” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، اور مسک کے سیاسی عزائم پر کھل کر تنقید کی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے نیو جرسی گالف کلب سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا”تیسرے فریق نے کبھی کام نہیں کیا۔ وہ اس کے ساتھ کھیل سکتا ہے، لیکن میرے خیال میں یہ سب کچھ ایک مذاق ہے۔”
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک تفصیلی پوسٹ میں ایلون مسک پر تنقید کرتے ہوئے کہا”مسک گزشتہ چند ہفتوں سے مکمل طور پر ریلوں سے اتر چکے ہیں۔”
صدر نے مزید کہا کہ تیسرے فریق ہمیشہ سیاسی افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ”ایلون مسک کی نئی جماعت دراصل میرے اقدامات، خصوصاً الیکٹرک گاڑیوں کی سبسڈی ختم کرنے کی کوششوں پر ان کا ردِ عمل ہے۔”
دوسری جانب، ایلون مسک نے اپنے مجوزہ سیاسی پلیٹ فارم "America Party” کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ”یہ جماعت امریکی جمہوریت کو دو پارٹیوں کے چنگل سے نکالنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو پرانے سیاسی ڈھانچوں سے آزاد ہو اور قومی مفاد کو اولین رکھے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، یہ تنازع امریکی دائیں بازو کی صفوں میں واضح تقسیم کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک جانب ٹرمپ 2024 کے بعد دوبارہ انتخاب کی دوڑ میں شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب مسک ایک آزاد سیاسی اثر و رسوخ کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
