مودی سرکار بنگلہ دیش کی سیاست کو کنٹرول کرنے کے ایجنڈے پر قائم،سازشیں جاری

نئی دہلی:بھارتی نواز شیخ حسینہ واجد کی کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے باوجود مودی سرکار کی بنگلہ دیش کی سیاست میں مداخلت اور سازشیں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔

باوثوق ذرائع اور بھارتی جریدے "دی پرنٹ” کی رپورٹ کے مطابق، شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی عوامی لیگ کے 1300 سے زائد رہنماء بھارت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، جنہیں مودی سرکار کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کولکتہ کا "نیو ٹاؤن” علاقہ عوامی لیگ کے جلا وطن رہنماؤں کے لیے ایک پرتعیش رہائشی مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان رہنماؤں میں بنگلہ دیش کے سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان بھی شامل ہیں، جو نہ صرف کولکتہ میں قیام پذیر ہیں بلکہ ہفتہ وار دہلی کا سفر کرکے بھارتی حکام سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

اسدالزمان پر عوامی تحریک کے دوران ہلاکتوں کے سنگین مقدمات قائم ہیں، اور ان کی بھارت منتقلی غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق، بھارتی حکومت نے ان رہنماؤں کو سیاسی پناہ ہی نہیں دی، بلکہ انہیں نئی سازشوں کے لیے محفوظ پلیٹ فارم بھی فراہم کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار خطے میں اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے۔شیخ حسینہ کی حکومت کے دور میں بنگلہ دیشی عوام پر ہونے والے مظالم اب دنیا پر عیاں ہو چکے ہیں، مگر بھارت کی سیاسی و اخلاقی حمایت بدستور جاری ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے