وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال اور اس حوالے امدادی کارروائیوں پر جائزہ اجلاس ہوا۔۔۔
وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور پرووفنشیل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو دریائے ستلج کے سیلاب سے متاثرہ صوبہ پنجاب میں ریسکیو آپریشنز کرنے کی ہدایت جاری کی۔۔ سیلاب میں پھنسے افراد کو جلد محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔۔
وزیر اعظم نے متاثرین کو خوراک، ادویات اور خیموں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے پنجاب کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے سے مکمل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔۔
اجلاس کو ملک میں سیلابی صورتحال اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ دریائے ستلج میں سیلاب کے حوالے سے پیشگی اطلاع کی وجہ سے دریا گزرگاہ کے نواحی علاقوں سے مقامی آبادی کو بروقت نکال لیا گیا جس کے باعث اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔۔دریائے ستلج کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں متعلقہ اداروں کے ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔۔ اب تک ایک لاکھ 74 ہزار 74 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع نارووال میں لہری بند کے سیلاب سے متاثرہ علاقے سے مقامی آبادی کے انخلاء کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی کا کام جاری ہے۔۔گلگت بلتستان میں قومی شاہراہ کا 2 کلومیٹر کا علاقہ سیلاب کی وجہ سے زیر آب ہے جس کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔۔۔
بریفنگ میں این ڈی ایم اے نے کہا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی دریائے راوی میں جسٹر اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے ۔۔ نالہ ڈیک میں بھی شدید سیلابی صورتحال ہے۔۔
اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں لاہور، گوجرانوالا ، گجرات ،راولپنڈی ڈویژنز، آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع میں شدید بارشیں جبکہ گلگت بلتستان کے کئی مقامات پر بھی بارشیں ہوں گی۔۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال, وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔۔
