واشنگٹن — امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی ہے کہ وہ 33 سال بعد پہلی بار جوہری ہتھیاروں کے تجربات فوری طور پر دوبارہ شروع کرے۔ یہ اعلان انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے چند منٹ قبل کیا، جس سے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر کیا جب وہ میرین ون ہیلی کاپٹر میں بوسان (Busan) جا رہے تھے تاکہ چینی صدر سے تجارتی مذاکرات کے لیے ملاقات کر سکیں۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا “دیگر ممالک کے تجرباتی پروگراموں کے پیشِ نظر میں نے وزارتِ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہمارے جوہری ہتھیاروں کی جانچ کو برابری کی بنیاد پر دوبارہ شروع کرے — یہ عمل فوراً شروع کیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ روس دوسرے نمبر پر ہے جبکہ چین ابھی کافی پیچھے ہے، لیکن پانچ سال میں برابر آ جائے گا۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ کا اشارہ جوہری دھماکوں کے تجربات کی جانب ہے یا جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے تجربات کی طرف — جو عام طور پر نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (NNSA) کی نگرانی میں انجام دیے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے اس اعلان سے عالمی اسلحہ کنٹرول معاہدوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایک نئے جوہری ہتھیاروں کے دوڑ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
