اسلام آباد خودکش حملہ: عالمی رہنماؤں اور تنظیموں کی شدید مذمت

0

اسلام آباد – وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ روز جی-11 ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان عزیز حق کے مطابق، سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ دہشت گردی کے تمام واقعات کی مذمت کی جانی چاہیے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا ضروری ہے۔

امریکہ نے بھی واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کھڑے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے۔”
یہ بیان امریکی سفارتخانے اسلام آباد کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا۔

چین نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے "گہرے دکھ” کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
چینی سفارتخانے کے مطابق، "ہم اسلام آباد میں خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور پاکستان کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔”

برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے جذبات متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے برطانوی شہریوں کو پاکستان میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری اپ ڈیٹ کرنے کا اعلان کیا۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "ترکی پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔”

اسی طرح قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسلام آباد اور جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ دونوں ممالک نے کہا کہ وہ ہر قسم کی دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کی مخالفت کرتے ہیں۔

عالمی برادری کا مجموعی مؤقف یہی ہے کہ ایسے بزدلانہ اقدامات پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، بلکہ دہشت گردی کے خلاف قومی اور عالمی اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.