یوکرین کا امریکی حمایت یافتہ امن فریم ورک پر پیشرفت پر آمادگی کا اعلان، زیلنسکی کا یورپی اتحادیوں کی شمولیت پر زور
واشنگٹن/کیویو – یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ فریم ورک پر پیشرفت کے لیے تیار ہے اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں پیچیدہ اور حساس نکات پر بات چیت کے لیے بھی آمادہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ فیصلے مؤثر اور دیرپا ثابت ہو سکیں۔
زیلنسکی نے یہ مؤقف رضامند اتحادیوں کے اتحاد کے نام سے کی جانے والی ایک تقریر میں اختیار کیا، جس کی نقل رائٹرز نے حاصل کی۔ انہوں نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں "یقین دہانی فورس” کی ممکنہ تعیناتی کے لیے ایک مربوط فریم ورک تشکیل دیں اور اس وقت تک کیف کی حمایت جاری رکھیں جب تک ماسکو جنگ بندی یا پسپائی کی کوئی عملی کوشش نہیں دکھاتا۔
امریکی اور یوکرائنی حکام اس وقت ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ اسے روسی شرائط پر مبنی کسی معاہدے کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے، جس میں علاقائی رعایتیں شامل ہونے کا امکان ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین اور یورپ کے مستقبل سے متعلق سیکیورٹی فیصلوں میں متعلقہ ممالک کی شرکت لازمی ہے، کیونکہ کسی ملک کے مستقبل کا فیصلہ اس کی عدم موجودگی میں کیا جائے تو ایسے معاہدوں کے ناکام ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی بنیاد رکھنے والا فریم ورک تیار ہے اور یوکرین صدر ٹرمپ کی ذاتی شمولیت کے ساتھ اس پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔