نیتن یاہو پہلی بار عدالت میں پیش، کرپشن کیس میں معافی کی درخواست پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

0

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پیر کو اپنے طویل عرصے سے چل رہے بدعنوانی کے مقدمے میں پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے صدر سے معافی کی درخواست کی، جس کی حمایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔

حزب اختلاف کے سیاستدان اس درخواست کے خلاف ہیں، جن کا کہنا ہے کہ کسی بھی معافی کا تعلق نیتن یاہو کے سیاست سے ریٹائر ہونے اور جرم کے اعتراف سے مشروط ہونا چاہیے۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ وہ اس مقدمے کو ختم کرنے کی حمایت کریں گے اگر نیتن یاہو ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے عہدہ چھوڑنے پر رضامند ہوں۔

نیتن یاہو پر 2020 میں رشوت ستانی، فراڈ اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، جبکہ وزیر اعظم نے بار بار کسی غلط کام سے انکار کیا ہے اور اپنی معافی کی درخواست میں جرم کا اعتراف نہیں کیا۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے پر وہ مکمل طور پر بری ہو جائیں گے۔

پیر کو تل ابیب کی عدالت کے باہر مظاہرین نے نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کیا اور ان سے جیل جانے کا مطالبہ کیا، جبکہ صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا کہ معافی کی درخواست کو انتہائی درست طریقے سے نمٹایا جائے گا اور ملک کے بہترین مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

دائیں بازو کے اتحادیوں نے نیتن یاہو کی معافی کی حمایت کی ہے، جبکہ ٹرمپ نے اس معاملے کو "سیاسی اور غیر منصفانہ استغاثہ” قرار دیا۔ اسرائیل میں معافی عام طور پر مقدمے کے مکمل ہونے اور سزا کے بعد دی جاتی ہے، اور مڈ ٹرائل معافی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.