روس نے پیر کو اعلان کیا کہ اس کی افواج نے فرنٹ لائن یوکرین کے قصبوں پوکروسک اور وووچانسک پر قبضہ کر لیا ہے اور دیگر علاقوں میں بھی پیش قدمی جاری ہے۔ روسی فوجی کمانڈروں نے صدر ولادیمیر پوتن کو یہ پیش رفت اطلاع دی اور اسے "کامیابی” قرار دیا۔ تاہم یوکرائنی حکام نے ابھی تک کسی بھی جگہ کے روس کے کنٹرول میں جانے کا اعتراف نہیں کیا۔
روسی جنرل اسٹاف کے سربراہ والیری گیراسیموف نے صدر پوتن کو بتایا کہ روسی افواج پوکروسک (روسی زبان میں کراسنوآرمیسک) پر قابض ہیں اور ڈونیٹسک اور لوہانسک کے صنعتی علاقے پر قبضے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ روسی فوجیوں نے ویڈیو میں پوکروسک کے سنسان سڑکوں اور ٹوٹ پھوٹ شدہ عمارتوں میں گھومتے ہوئے روسی جھنڈا لہرا دیا۔
شمال مشرقی یوکرین میں خارکیو کے علاقے کے نزدیک وووچانسک میں بھی شدید لڑائی جاری ہے، اور روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف نے قبضے کو مستقبل کی مزید کامیابیوں کی جانب قدم قرار دیا۔ روسی کمانڈروں کے مطابق فورسز پوکروسک اور قریبی قصبے میرنوہراد میں یوکرینی افواج کے خلاف کلین اپ آپریشن بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ زپوریزہیا میں مزید جنوبی پیش قدمی کی اطلاع دی گئی ہے۔
یوکرین کے جنرل اسٹاف نے کہا کہ روسی افواج نے پوکروسک کے آس پاس کے علاقوں میں اس کے ٹھکانوں پر 43 حملے کیے ہیں، اور گزشتہ ہفتے انہوں نے روس کے اس دعوے پر شک ظاہر کیا تھا کہ وووچانسک پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پیرس میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف سے ملاقاتیں کر رہے تھے تاکہ 3 سال سے زیادہ جاری جنگ کے تصفیے تک پہنچنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبوں پر بات چیت کی جا سکے۔
