ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی، میزائل حملوں اور فضائی کارروائیوں کے تبادلے کے بعد پاکستان، چین اور ترکی نے خطے میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں اور سفارت کاری و مذاکرات کے عمل کو دوبارہ فعال بنائیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے (ISNA) کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش رکھتا ہے اور ایران و امریکا کے درمیان رابطوں کے دروازے بدستور کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کا حامی ہے اور تمام متنازع امور کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے قیام میں سہولت کار کا کردار ادا کر چکا ہے اور اب بھی اسی مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ تمام فریقین کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے تنازعات کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سفارتی رابطے مزید جانی نقصان اور خطے میں عدم استحکام کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب چین نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے فوجی کارروائیوں کے تسلسل پر تشویش ظاہر کی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور فوجی تصادم کا سلسلہ بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
چینی ترجمان نے زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکیں، مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کریں۔
لن جیان کے مطابق چین بحران کے آغاز سے ہی ایران سمیت مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
ادھر ترکی نے بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا دونوں کو حملے بند کر کے مذاکراتی عمل کی طرف واپس آنا چاہیے تاکہ بحران مزید نہ پھیلے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی، ایران، امریکا اور پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ایک ممکنہ ثالث کے طور پر فریقین کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی اور مستقل امن معاہدے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
