امریکی صدر ٹرمپ کا ہائی اسکلڈ ورکرز کے لیے ویزا شرائط سخت کرنے کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہائی اسکلڈ ورکرز کے لیے ویزا پالیسی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سفارتکاروں کو ایچ ون بی ویزا درخواست گزاروں کی پروفائلز کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے 2 دسمبر کو دنیا بھر میں قائم امریکی مشنز کو جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ایچ ون بی ویزا کے لیے درخواست دینے والوں اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کے ریزیومے کے علاوہ LinkedIn پروفائلز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔
ہدایات کے مطابق اگر کسی درخواست گزار کے بارے میں سنسرشپ یا مواد کی نگرانی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تو وہ ایچ ون بی ویزا کے لیے نااہل تصور ہوگا۔
ایچ ون بی ویزا امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، اور ان کمپنیوں کی قیادت نے 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت بھی کی تھی۔ ٹیک سیکٹر اپنی بھرتیوں کا بڑا حصہ بھارت، چین اور دیگر ممالک سے حاصل کرتا ہے، جس پر نئی پالیسی کا براہِ راست اثر پڑنے کا امکان ہے۔
نئی ویزا سختیوں کا مقصد ہائی اسکلڈ ورک فورس سے متعلق پالیسیوں پر مزید کنٹرول حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم اس کے اثرات عالمی ٹیک انڈسٹری اور امیگریشن سے متعلق کاروباری ماحول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔