ٹرمپ کے الزامات کے بعد زیلنسکی کی پیشکش: اگر پارلیمنٹ اور اتحادی اجازت دیں تو 90 دن میں الیکشن کرانے کو تیار

زیلنسکی

کیف — یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ اور بین الاقوامی اتحادی اجازت دیں تو وہ اگلے تین ماہ کے اندر جنگ کے دوران انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ردعمل اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں اقتدار پر قابض رہنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "یوکرین طویل عرصے سے انتخابات نہیں کروا سکا، جو جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔”

زیلنسکی نے منگل کی شب اپنے بیان میں واضح کہا کہ انتخابی فیصلہ یوکرین کا اندرونی معاملہ ہے "یہ یوکرین کے عوام کا سوال ہے، نہ کہ کسی دوسری ریاست کا، اپنے شراکت داروں کے احترام کے ساتھ۔”

انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن اور یورپی پارٹنرز انتخابی سکیورٹی میں تعاون کریں تو یوکرین 60 سے 90 دن میں الیکشن کرانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

زیلنسکی کی آئینی مدت گزشتہ سال مئی میں ختم ہوئی، لیکن یوکرین کا قانون مارشل لا اور جنگی صورتحال کے دوران انتخابات کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے ناقدین اور اپوزیشن رہنما بھی اعتراف کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں انتخابات غیر محفوظ اور غیر یقینی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہولوس پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ سرحی رحمانین نے خبردار کیا کہ جنگی حالات میں الیکشن دشمن کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ "ملک اس پوزیشن میں نہیں کہ یہ عیش برداشت کر سکے۔ ایسے وقت میں انتخابات صرف نقصان کا باعث ہوں گے۔”

زیلنسکی کے مطابق سب سے بڑے چیلنج یہ ہیں کہ فوجی محاذ پر موجود سپاہی، بے گھر شہری اور مقبوضہ علاقوں کے لوگ ووٹ کیسے ڈالیں گے، اور مارشل لا کے دوران آئینی طور پر انتخابات کس طریقہ کار سے منعقد ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے