واشنگٹن: امریکا کی 20 ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے H-1B ویزا پر 100 ہزار ڈالر فیس عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ریاستوں کا مؤقف ہے کہ یہ نئی پالیسی غیر قانونی ہے اور تعلیمی اداروں، صحت کے شعبے اور دیگر اہم عوامی خدمات کو سنگین نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مقدمہ کی تفصیلات
-
مقدمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی پالیسی کے خلاف دائر کیا گیا، جس کے تحت ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے H-1B ویزا درخواستوں کی فیس میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔
-
ریاستوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو اتنی بھاری فیس لگانے کا اختیار حاصل نہیں اور یہ انتظامی اور آئینی حدود کی خلاف ورزی ہے۔
-
H-1B پروگرام کی فیس ہمیشہ صرف انتظامی اخراجات تک محدود رہی ہے۔
ممکنہ اثرات
-
نئی پالیسی سے تعلیمی اور صحت کے شعبے میں عملے کی کمی مزید سنگین ہو جائے گی۔
-
حالیہ تعلیمی سال میں امریکا کے 74 فیصد اسکولوں کو اساتذہ کی خالی آسامیوں پر تقرری میں مشکلات کا سامنا رہا۔
-
H-1B ویزا رکھنے والے اساتذہ تیسرا بڑا پیشہ ور گروپ ہیں اور صحت کے شعبے میں بھی اس پروگرام پر بھاری انحصار ہے۔
نئی فیس اور سابقہ فیس
-
21 ستمبر 2025 کے بعد دائر درخواستوں پر بھاری فیس کا اطلاق ہوگا، جبکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کو کچھ درخواستوں کو مستثنیٰ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
-
قبل ازیں، H-1B ویزا کے لیے مجموعی سرکاری فیس 960 ڈالر سے 7,595 ڈالر کے درمیان تھی۔
طبی شعبے پر اثر
-
مالی سال 2024 میں تقریباً 17 ہزار H-1B ویزے طبی اور صحت کے شعبے کے لیے جاری کیے گئے، جن میں نصف افراد معالجین اور سرجن تھے۔
-
ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کے نتیجے میں امریکا کو 2036 تک تقریباً 86 ہزار ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
شامل ریاستیں
-
مقدمہ کی قیادت کیلیفورنیا اور میساچوسٹس کر رہے ہیں۔
-
دیگر شامل ریاستیں: ایریزونا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، میری لینڈ، مشی گن، مینیسوٹا، نیواڈا، نارتھ کیرولائنا، نیو جرسی، نیویارک، اوریگن، رہوڈ آئی لینڈ، ورمونٹ، واشنگٹن اور وسکونسن۔
H-1B ویزا پروگرام امریکا میں ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے، جو ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیمی تحقیق کے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔