ٹرمپ اور زیلنسکی کا دعویٰ: یوکرین جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے، ڈونباس بدستور سب سے بڑا تنازع

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے پام بیچ میں اتوار کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ دونوں ممالک یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے “بہت قریب” پہنچ چکے ہیں، تاہم متنازع مشرقی خطہ ڈونباس اب بھی سب سے اہم حل طلب مسئلہ بنا ہوا ہے۔

ٹرمپ نے ملاقات سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے 75 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس بات چیت کے بعد انہیں یقین ہو گیا ہے کہ ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ اور زیلنسکی نے ٹرمپ کے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔

دونوں رہنماؤں نے امن مذاکرات کے دو انتہائی حساس معاملات پر پیش رفت کا ذکر کیا، جن میں یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتیں اور ڈونباس خطے کی تقسیم شامل ہیں، جس پر روس قبضہ چاہتا ہے۔ تاہم کسی حتمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گا کہ مذاکرات کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرین کے لیے سکیورٹی کی ضمانتوں کے حوالے سے معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ ٹرمپ نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر وہ 95 فیصد پیش رفت کر چکے ہیں اور یورپی ممالک امریکی حمایت کے ساتھ اس عمل کا بڑا حصہ سنبھالیں گے۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک بیان میں کہا کہ سلامتی کی ضمانتوں پر پیش رفت ہوئی ہے اور “کوئیلیشن آف دی لنگ” میں شامل ممالک جنوری کے اوائل میں پیرس میں ملاقات کر کے اپنی عملی شراکت کو حتمی شکل دیں گے۔

ڈونباس کے حوالے سے یوکرین امریکی تجویز میں نرمی چاہتا ہے جس کے تحت یوکرائنی افواج کو بعض علاقوں سے انخلا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ روس پورے ڈونباس پر کنٹرول کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کیف موجودہ جنگی خطوط کو منجمد کرنے کا حامی ہے۔ ٹرمپ اور زیلنسکی نے واضح کیا کہ ڈونباس کا مستقبل تاحال طے نہیں ہو سکا، تاہم امریکی صدر کے مطابق بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

امریکہ نے اس تنازع کے حل کے لیے یوکرین کے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کی صورت میں ایک آزاد اقتصادی زون کی تجویز بھی دی ہے، تاہم اس کے عملی طریقہ کار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

زیلنسکی نے جنگ کے بعد یوکرین کے تحفظ کے لیے طے پانے والے ممکنہ انتظامات کو “پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگ میل” قرار دیا، لیکن ان کی نوعیت پر مزید روشنی نہیں ڈالی گئی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.