یروشلم — اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی (انروا) کا سفارتی استثنیٰ باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے، جس کے بعد اسرائیلی عدالتوں میں انروا کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہو جائے گی۔
خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اس حوالے سے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں قائم انروا کے دو دفاتر ضبط کر سکیں گے۔
خدمات کی فراہمی پر پابندی
نئے قانون کے تحت اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل اس سے قبل بھی گزشتہ سال انروا پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
انروا کا ردِعمل
اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا نے اسرائیلی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ادارے کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کا حصہ ہے۔ انروا کے مطابق وہ پورے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کو تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی خدمات فراہم کر رہی ہے۔
ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگیوں پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور خطے میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انروا کئی دہائیوں سے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے تعلیم، صحت، خوراک اور امدادی خدمات فراہم کر رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اسرائیل اور انروا کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
