ایران کا ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل، اقوام متحدہ سے امریکی صدر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو غیر قانونی، اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے ان بیانات کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔
ایراوانی کی جانب سے اقوام متحدہ کو ارسال کردہ ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج سے متعلق امریکی صدر کے بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت یا بدامنی کو ہوا دینا ناقابل قبول ہے اور ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت یا مداخلت کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب ایران کے سینئر رہنما علی لاریجانی نے بھی امریکی صدر کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ایران کے اندر امریکی مداخلت خطے میں افراتفری اور عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران میں مزید مظاہرین مارے گئے تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا پُرامن مظاہرین کے تحفظ کے لیے ایران جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ ایران نے اسے کھلی دھمکی اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔