تہران – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت کی دھمکی کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کسی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گی، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کے دوران گرفتاریوں اور ہلاکتوں میں تیزی سے اضافے کی اطلاع دی ہے۔
رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کی حمایت یافتہ اسرائیلی حکومت کے خلاف حالیہ 12 روزہ جنگ کے شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی تھی اس کے بعد سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران ’’دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا‘‘ اور خبردار کیا کہ بدامنی پھیلانے والوں کو ’’ان کی جگہ پر رکھا جائے گا‘‘۔
انہوں نے ایک طرف معاشی مسائل پر عوامی تشویش کو تسلیم کیا، تو دوسری جانب پرتشدد مظاہرین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ خامنہ ای نے کہا،
“بازار کے تاجر درست کہتے ہیں، وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ موجودہ حالات میں کاروبار ممکن نہیں۔ ہم جائز مطالبات سننے اور بات چیت کے لیے تیار ہیں، مگر فسادیوں سے گفتگو بے سود ہے۔”
آیت اللہ خامنہ ای نے الزام لگایا کہ دشمن کے کرائے کے عناصر تاجروں اور دکانداروں میں گھس کر اسلام، ایران اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، اور انہوں نے سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے۔
