امن کونسل میں شرکت سے انکار: ٹرمپ نے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس سے درآمد کی جانے والی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا تجارتی اور سفارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ بیان ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا، جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ان کے مجوزہ بورڈ آف پیس (Board of Peace) اقدام میں شمولیت سے انکار کیوں کیا۔
اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر فرانس نے ان کے امن اقدام میں شمولیت اختیار نہ کی تو وہ فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد بھاری ٹیرف نافذ کر دیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “جب میں ان کی شراب اور شیمپین پر دو سو فیصد ٹیکس لگا دوں گا تو انہیں بورڈ آف پیس میں شامل ہونا ہی پڑے گا۔”
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو یورپ کے خلاف دباؤ کی ایک نئی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے وہ مختلف ممالک کو اپنے مجوزہ عالمی امن ڈھانچے میں شمولیت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان پہلے ہی گرین لینڈ، غزہ اور عالمی سلامتی کے معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی ٹیرف کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان مزید واضح ہو رہا ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی فرانسیسی شراب پر 200 فیصد ٹیرف نافذ کرتا ہے تو اس سے ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایک نئی تجارتی جنگ کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔