ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے، ڈنمارک سے طویل المدتی معاہدے کا عندیہ

ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے، ڈنمارک سے طویل المدتی معاہدے کا عندیہ

ڈیووس، سوئٹزرلینڈ — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے محصولات عائد کرنے اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے اچانک پیچھے ہٹتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اس معاملے کو ڈنمارک کے ساتھ ایک طویل المدتی معاہدے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر کہا کہ گرین لینڈ سے متعلق ایسا معاہدہ ممکن ہے جس سے تمام فریق مطمئن ہوں اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔

ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے نیٹو اتحاد میں بے چینی پیدا کر دی تھی اور ایک نئی عالمی تجارتی جنگ کا خدشہ بھی جنم لے چکا تھا، کیونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے آٹھ یورپی ممالک کی امریکا کو برآمدات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ تاہم ڈیووس میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کے بعد امریکی صدر کے لہجے میں واضح نرمی دیکھی گئی۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ایک ایسا معاہدہ زیرِ غور ہے جو مغربی اتحادیوں کے سیکیورٹی مفادات، مجوزہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی نظام اور اہم معدنی وسائل تک رسائی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل المدتی اور حتمی نوعیت کی ڈیل ہو گی جو تمام فریقوں کو مضبوط پوزیشن میں لے آئے گی، خاص طور پر سلامتی اور معدنی وسائل کے حوالے سے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایسا معاہدہ ہے جس سے سب خوش ہوں گے، یہ ہمیشہ کے لیے ہو گا۔‘‘

دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے بعد ازاں وضاحت کی کہ ان کی صدر ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات میں یہ بات زیرِ بحث نہیں آئی کہ آیا گرین لینڈ بدستور ڈنمارک کے ساتھ رہے گا یا نہیں۔

مارک روٹے نے ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی توجہ بنیادی طور پر آرکٹک خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ہے، جہاں چین اور روس کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، اور اصل سوال یہ ہے کہ مغربی ممالک اس وسیع اور حساس خطے کی حفاظت کس طرح یقینی بنا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا مؤقف تبدیل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اب گرین لینڈ کے معاملے کو دباؤ یا دھمکیوں کے بجائے سفارتی معاہدے کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، تاکہ یورپ کے ساتھ تعلقات میں مزید دراڑ نہ پڑے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے