امریکا کا یورپی یونین پر روس–یوکرین جنگ کی بالواسطہ فنڈنگ کا الزام

US Treasury Secretary Scott Besant

واشنگٹن — امریکا نے یورپی یونین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) کے ذریعے بالواسطہ طور پر روس–یوکرین جنگ کو مالی فائدہ پہنچا رہا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ یورپی ممالک نے براہِ راست روس سے توانائی کی خریداری میں نمایاں کمی کی ہے، تاہم بھارت میں ریفائن ہونے والی روسی تیل کی مصنوعات کی درآمد کے ذریعے ماسکو کو اب بھی آمدن حاصل ہو رہی ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق روسی خام تیل بڑی مقدار میں بھارت بھیجا جاتا ہے، جہاں اسے ریفائن کیا جاتا ہے، اور بعد ازاں یہی مصنوعات یورپی منڈیوں میں فروخت ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں روس کو جنگی معیشت کے لیے وسائل میسر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی ٹیرف سمیت مجموعی طور پر 50 فیصد تجارتی محصولات عائد کیے ہیں، جبکہ اسی دوران یورپی یونین نے بھارت کے ساتھ ایک بڑے آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ کا دعویٰ تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا نے روس کی توانائی تجارت کو محدود کرنے کے لیے یورپ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اقتصادی قربانیاں دی ہیں، اور واشنگٹن اب بھی یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی اور معاشی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب بھارت اور یورپی یونین آج اپنے طویل عرصے سے زیرِ التوا آزاد تجارتی معاہدے کو باضابطہ طور پر حتمی شکل دینے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز 2007ء میں ہوا تھا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن اس معاہدے کو ماضی میں “تمام تجارتی معاہدوں کی ماں” قرار دے چکی ہیں، جسے عالمی تجارت میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا کے حالیہ بیانات یورپ، بھارت اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی اور سفارتی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور روس–یوکرین جنگ سے متعلق مستقبل کی پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے