لاہور / لندن — سینئر پاکستانی اداکارہ، پروڈیوسر اور معروف ٹی وی میزبان جویریہ سعود نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ، اپنے آنے والے ڈرامہ منصوبوں اور رمضان ٹرانسمیشن سے متعلق خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں برطانیہ میں منعقد ہونے والے ایک فیشن شو میں جویریہ سعود کی شرکت اور ان کے لباس پر ہونے والی تنقید کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جویریہ سعود نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے لباس کے نیچے مکمل باڈی سوٹ پہن رکھا تھا، اور میں کسی کو جواب دہ نہیں ہوں۔
ایک انٹرویو کے دوران سوشل میڈیا ٹرولنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے جویریہ سعود نے کہا کہ کچھ لوگ منفی تبصروں کے عادی ہوتے ہیں اور وہ ہر حال میں تنقید ہی کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد دراصل زندگی سے ناخوش ہوتے ہیں اور دوسروں کی خوشیوں سے جلتے ہیں، اس لیے انہیں نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔
جویریہ سعود ان دنوں برطانیہ میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایک فیشن شو میں اپنی ڈیزائن کردہ کلیکشن پیش کی، جسے شائقین کی جانب سے سراہا بھی گیا، تاہم لباس کے بولڈ انداز پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔
اپنے آنے والے ڈراموں سے متعلق بات کرتے ہوئے جویریہ سعود نے بتایا کہ وہ اس وقت ایک نئے پروڈکشن پراجیکٹ ’نکمّے‘ پر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ڈرامہ ایسے لوگوں کے گرد گھومتا ہے جو محنت سے گریز کرتے ہیں اور کام سے بچنے کے لیے مختلف بہانے بناتے ہیں، جو آج کے معاشرتی رویّوں کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اپنے ماضی کے کامیاب منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرامہ ’یہ زندگی ہے‘ ساڑھے چھ سال تک نشر ہوا، جو پاکستانی ٹی وی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ’یہ کیسی محبت ہے‘ سمیت کئی مقبول ڈرامے تحریر اور پروڈیوس کیے۔
رمضان ٹرانسمیشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جویریہ سعود نے کہا کہ رمضان ٹرانسمیشن ان کے شیڈول کا حصہ ہے اور انہیں یہ پروگرام کرنا بے حد پسند ہے۔ان کے مطابق رمضان ٹرانسمیشن نہ صرف روحانی سکون کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ انہیں ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر سیکھنے کا بھی موقع فراہم کرتی ہے۔
جویریہ سعود کے نمایاں ڈراموں اور پروڈکشنز میں شامل ہیں یہ زندگی ہے، نند، پرستان، بے بی باجی، بے بی باجی کی بہوئیں، محبت ست رنگی، بجو، محبت اور مہنگائی — جو ناظرین میں بے حد مقبول رہے۔
