ایران میں حکومت مخالف و حامی طلبہ آمنے سامنے، جامعات میں کشیدگی

Anti-government and pro-government students face off in Iran, tensions in universities

ایران میں ہفتے کو ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اتوار کو مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں اور امریکا کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز کے مطابق امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں حکومت کے حامی اور مخالف طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بعض طلبہ نے بادشاہت کی بحالی کے نعرے بھی لگائے، جسے حکام نے انقلاب مخالف سرگرمی قرار دیا۔

متعدد جامعات میں نعرے بازی

سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امیر کبیر یونیورسٹی کے علاوہ شریف یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایران میں بھی کچھ طلبہ کی جانب سے انقلاب مخالف نعرے لگائے گئے۔

ادھر مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے حسین گلدانساز نے کہا کہ جنوری میں ہلاک ہونے والے افراد کے سوگ کے باعث تہران یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور طلبہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

ملک میں سیاسی تقسیم نمایاں

ایک طرف حکومت کے حامی ریلیاں نکال رہے ہیں اور امریکا مخالف نعرے لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض جامعات میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں، جس سے ایران کے تعلیمی ادارے سیاسی تقسیم کا مرکز بن گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جامعات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی آئندہ دنوں میں داخلی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے