سپین کا ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے سے انکار
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسپین امریکا کو ایران پر حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔
وزیر اعظم سانچیز نے کہا کہ غیر قانونی اور یک طرفہ فوجی کارروائیوں میں شامل نہیں ہوں گے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپین اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا اور مسلح کارروائیوں کے بجائے تمام مسائل کا حل گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر یقین رکھتا ہے۔
امریکی طیاروں کی منتقلی
خبر ایجنسی کے مطابق ہسپانوی وزیراعظم کے بیان کے بعد امریکی طیاروں کو اسپین کے اڈوں سے ہٹا کر جرمنی اور دیگر یورپی ممالک منتقل کر دیا گیا ہے۔
تجارتی دھمکی
ہسپانوی موقف کے بعد صدر ٹرمپ نے اسپین سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سیاست اور خطے میں فوجی اتحاد پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ اسپین کے موقف کو عالمی سطح پر بین الاقوامی قانون کے احترام کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔