لندن میں یوم القدس: حکومت کی پابندی کے باوجود فلسطین کی حمایت میں سینکڑوں افراد نے مارچ کیا

Quds Day in London: Hundreds march in support of Palestine despite government ban

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں یوم القدس کے موقع پر فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مارچ پر حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود سینکڑوں مظاہرین نے شرکت کی۔ اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ یہ پابندی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے تناظر میں عائد کی گئی تھی۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا کہ 2012 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دارالحکومت میں یوم القدس کے مارچ پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کے باوجود فلسطین کے حامی مظاہرین کو دریاۓ ٹیمز کے جنوب کی طرف جمع ہونے کی اجازت دی گئی، جہاں انہوں نے فلسطین کے جھنڈے اٹھائے اور "غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم بند کرو” جیسے نعرے لگائے۔

جنوبی لندن سے تعلق رکھنے والی 81 سالہ پنشنر جین ایپس نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی وجہ سے وہ مارچ میں شریک ہیں اور اس مرتبہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے غیر قانونی حملوں کو بھی اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

دریا کے دوسری طرف اسرائیل کی حمایت میں مظاہرین نے امریکی اور اسرائیلی پرچم لہرا کر اور جلاوطن ایرانی رہنما رضا پہلوی کے حق میں نعرے لگائے۔ اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن (IHRС) نے مارچ پر پابندی کے فیصلے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ مارچ فلسطینیوں اور دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا بین الاقوامی مظاہرہ تھا۔

ریلی میں شریک 19 سالہ علی نے کہا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے موجود ہیں۔ امن کو یقینی بنانے کے لیے ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جنہوں نے مختلف الزامات کے تحت درجن بھر مظاہرین کو گرفتار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی حمایت میں مظاہرین کی تعداد فلسطین کی حمایت میں موجود افراد سے بہت کم تھی۔

یاد رہے کہ یوم القدس ہر سال مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف احتجاج اور فلسطینی عوام کی حمایت کرنا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے