مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران United Kingdom نے United States کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کے دفتر 10 Downing Street کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات برطانوی مفادات کے تحفظ اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب Iran نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی تو اسے براہِ راست جارحیت میں شمولیت تصور کیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانوی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھائے گا بلکہ خود برطانیہ کے عوام کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کے فیصلے عالمی سطح پر تنازع کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ کا یہ اقدام امریکا کے ساتھ دفاعی اتحاد کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو پہلے ہی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
