اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu نے حضرت عیسیٰؑ کی شان میں گستاخی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت جاری کی ہے کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور عیسائیوں کے حوالے سے جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل میں عیسائی برادری محفوظ ہے اور ترقی کر رہی ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں حضرت عیسیٰؑ کی توہین نہیں کی بلکہ ایک معروف امریکی مؤرخ Will Durant کا حوالہ دیا تھا، جو حضرت عیسیٰؑ کے مداح تھے۔ ان کے بقول ڈیورانٹ نے یہ نکتہ پیش کیا تھا کہ محض اخلاقیات کسی تہذیب کی بقا کے لیے کافی نہیں ہوتیں، بلکہ دفاعی قوت بھی ضروری ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی گفتگو کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ اگر کوئی معاشرہ اپنی حفاظت کی صلاحیت نہ رکھے تو وہ زیادہ طاقتور اور بے رحم دشمن کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے، اور اس میں کسی کی دل آزاری مقصود نہیں تھی۔
واضح رہے کہ حالیہ خطاب میں نیتن یاہو نے حضرت عیسیٰؑ کا موازنہ تاریخی شخصیت Genghis Khan سے کیا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور بالخصوص عیسائی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ناقدین نے اس تقابل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی۔
اسی خطاب میں انہوں نے 28 فروری کو ایران کے خلاف اسرائیل اور United States کی مشترکہ کارروائی کا دفاع بھی کیا، اور اسے عالمی سلامتی کے تناظر میں ضروری اقدام قرار دیا۔
