مقبوضہ جموں و کشمیر میں عید کے موقع پر ایک بار پھر جامع مسجد سری نگر میں نمازِ عید کی ادائیگی کی اجازت نہ دی گئی، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید بے چینی اور افسوس پایا جاتا ہے۔
Srinagar Jamia Masjid کے حوالے سے Kashmir Media Service کی رپورٹس کے مطابق بھارتی انتظامیہ نے مسلسل آٹھویں سال اس تاریخی مسجد کو عید کے موقع پر بند رکھا اور مسجد کے دروازوں پر تالے لگا دیے گئے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مسجد کے اطراف بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ کسی بھی بڑے اجتماع کو روکا جا سکے۔ اس صورتحال کے باعث کشمیری مسلمان عید کی نماز اپنی مرکزی عبادت گاہ میں ادا نہ کر سکے۔
اسی دوران حریت رہنما Mirwaiz Umar Farooq کو بھی گھر میں نظر بند رکھا گیا، اور انہیں عید یا جمعہ کی نماز کے لیے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق انہیں گزشتہ روز بھی نظر بند رکھا گیا تھا، جس کے باعث وہ جمعہ کی نماز میں بھی شریک نہیں ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے عید کے مواقع پر جامع مسجد سری نگر میں اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں۔
کشمیری حلقوں کے مطابق ان اقدامات نے مذہبی آزادی اور شہری حقوق کے حوالے سے سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ بھارتی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔
