ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان، کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری

Trump announces postponement of possible attacks on Iran, talks continue to reduce tensions

Donald Trump نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے توانائی انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس پر مجوزہ امریکی حملے پانچ روز کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں، تاکہ جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران United States اور Iran کے درمیان “بہت مثبت اور نتیجہ خیز” مذاکرات ہوئے ہیں، جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کو ختم کرنا ہے۔

ان کے مطابق انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی کارروائی کو عارضی طور پر روک دیا جائے، جبکہ اس دوران سفارتی رابطے جاری رہیں گے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مذاکرات کی پیش رفت سے مشروط ہے اور اگر بات چیت کامیاب رہی تو مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس سے قبل ٹرمپ نے ایران کو Strait of Hormuz کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا، جو پاکستانی وقت کے مطابق ختم ہو چکا ہے۔ اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی۔

ادھر Islamic Revolutionary Guard Corps نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے پاور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات کو بھی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Iran کے صدر Masoud Pezeshkian نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اور ایران کو کمزور کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز تمام ذمہ دار ممالک کے لیے کھلی ہے اور اس کی بندش کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ سفارتی مذاکرات بھی بیک وقت جاری ہیں، اور آئندہ چند دن خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے