پاکستانیوں کی بیرون ملک پڑی اربوں ڈالر کی دولت واپس لانے کےلیے روشن ڈیجیٹل اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے سمیت مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ اور یورپ سمیت مختلف ملکوں میں پاکستانیوں کی 20 ارب ڈالر دولت کا تخمینہ ہے۔ اس رقم کو واپس لانے کیلئے کسی بھی شہری کو روشن ڈیجیٹل اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے پر غور جاری ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت اسکیم صرف اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کیلئے ہے۔ اب غیرملکی کمپنیوں اور پاکستان میں مقیم شہریوں کو بھی اس اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے 8 ماہ میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں ایک ارب 76 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری آئی۔ علاقائی کشیدگی کےتناظر میں بیرونی دولت کی منتقلی میں سہولت دینے پر غور جاری ہے۔ 2018 اور 2019 میں ایمنیسٹی میں ظاہرکردہ دولت پاکستان منتقل نہیں کی گئی۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق دونوں اسکیموں میں 82 ہزار 889 افراد نےگوشوارے جمع کرائے، حکومت کو 194 ارب روپے مجموعی ٹیکس حاصل ہوا تھا۔ اب رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس میں رعایت دینےکی بھی تجویز ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں سےرئیل اسٹیٹ سیکٹرمیں خریدی جائیداد کی قیمت کے 10 فیصد پر ٹیکس وصولی کی تجویز ہے۔
