عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم Access Now کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ India دنیا میں انٹرنیٹ بندش کے حوالے سے بدترین ممالک میں سرفہرست ہے، جہاں صرف سال 2025 کے دوران 65 مرتبہ انٹرنیٹ سروسز معطل کی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ تعداد کسی بھی جمہوری ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، جس نے عالمی سطح پر ڈیجیٹل آزادی، اظہارِ رائے اور شہری حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کا رجحان گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس سے قبل 2018 میں 134 جبکہ 2019 میں 121 مرتبہ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کیا گیا، جو اس پالیسی کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔
ایکسز ناؤ کے مطابق بھارت کی کم از کم 12 ریاستوں اور علاقوں میں اندرونی خلفشار، احتجاج، سیکیورٹی خدشات اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر بار بار انٹرنیٹ بند کیا گیا۔ تاہم رپورٹ میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات اکثر عوامی آواز کو محدود کرنے اور معلومات تک رسائی کو روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش نہ صرف آزادی اظہار کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، آن لائن تعلیم، صحت کی سہولیات اور ہنگامی خدمات پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اقدام عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے جمہوری تشخص کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومتیں سیکیورٹی خدشات کے حل کے لیے متبادل اور متوازن حکمتِ عملی اپنائیں اور انٹرنیٹ بندش جیسے اقدامات کو آخری آپشن کے طور پر استعمال کریں، تاکہ شہری آزادیوں اور ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
