پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور سفارتی تعاون کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں، جبکہ پاکستانی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi نے تہران میں ایرانی صدر Masoud Pezeshkian سے اہم ملاقات کی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ ہفتے کے روز تہران پہنچے، جہاں انہوں نے صدارتی محل میں متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے بیان کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدارتی دفتر میں تقریباً تین گھنٹے گزارے۔
اس دوران ایران کے وزیر داخلہ Eskandar Momeni اور ایرانی وزیر خارجہ بھی صدارتی محل میں موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق محسن نقوی اور صدر مسعود پزشکیان کے درمیان تقریباً 90 منٹ طویل نجی ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور امن ثالثی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ایرانی وزیر داخلہ بھی شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں کے فروغ اور امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر خصوصی گفتگو کی گئی۔ پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ خطے میں استحکام اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام آباد کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور پاکستان کے وزرائے داخلہ کے درمیان ہونے والی الگ دوطرفہ ملاقات میں بھی باہمی تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی اور حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے Syed Asim Munir کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث علاقائی سفارت کاری اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
