اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیاسی وجوہات کی خاطر یو اے ای کے خفیہ دورے کو منظرعام پر لائے، اسرائیلی میڈیا

Netanyahu's secret visit to UAE during Iran war, Israeli Prime Minister's office reveals

اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے اپنے خفیہ دورے کو سیاسی وجوہات کی بنیاد پر منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا، حالانکہ اماراتی حکام نے مبینہ طور پر اس ملاقات کو خفیہ رکھنے کی درخواست کی تھی۔

اسرائیل کے نجی ٹی وی چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے دوران خفیہ طور پر United Arab Emirates کا دورہ کیا تھا اور اماراتی صدر Mohamed bin Zayed Al Nahyan سے ملاقات کی تھی۔

تاہم متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بیان کو “مکمل طور پر بے بنیاد” قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اماراتی حکام نے واضح طور پر کہا تھا کہ ملاقات کو خفیہ رکھا جائے، لیکن نیتن یاہو کی جانب سے اس دورے کی تشہیر پر ابوظہبی حکام ناراض ہوگئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ پیدا ہوا۔

چینل 12 نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے اس ملاقات کو اس وقت منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا جب انہیں معلوم ہوا کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم Naftali Bennett اگلے روز متحدہ عرب امارات کے دورے پر جانے والے ہیں، جہاں ان کی اماراتی قیادت سے ملاقاتیں طے تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کو خدشہ تھا کہ اگر بینیٹ کا دورہ عوامی سطح پر سامنے آیا جبکہ ان کی اپنی ملاقات خفیہ رہی تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ اماراتی حکومت موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بجائے بینیٹ کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسی سیاسی خدشے کے باعث نیتن یاہو نے اپنے خفیہ دورے کو میڈیا میں ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نفتالی بینیٹ کا منصوبہ بند دورہ بالآخر ہوا یا نہیں۔

بینیٹ کے دفتر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جبکہ نیتن یاہو کے دفتر نے چینل 12 کی رپورٹ کی تردید کی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں حساس سفارتی توازن کی عکاسی کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے