ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے اپنی عسکری تیاریوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایرانی آرمی چیف امیر حاتمی نے مسلح افواج کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جنرل امیر حاتمی نے آپریشنل ہیڈکوارٹرز کو ہدایت دی کہ دشمن کی ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے لیے فوری ردعمل کی تیاری برقرار رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی صورت زمینی کارروائی کی گئی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے بری، بحری، فضائی اور فضائی دفاعی افواج کے کمانڈرز سے گفتگو کی اور واضح کیا کہ ایرانی فوج ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ جارحانہ حکمت عملی بھی مضبوط ہے تاکہ کسی بھی حملے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
جنرل حاتمی نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی دشمن نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی کی کوشش کی تو اسے مکمل طور پر ناکام بنا دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔
انہوں نے امریکا اور اسرائیل کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ خطے میں ایران کے خلاف سازشوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایران کے وجود کو نقصان پہنچانے کے خواہاں ہیں، تاہم ایرانی افواج ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔
