فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس مسئلے کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔
جنوبی کوریا کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیاں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم نہیں کر سکتیں۔ ان کے مطابق پائیدار حل صرف اس صورت میں ممکن ہے جب تمام فریقین مذاکرات کی میز پر آئیں اور ایک واضح سفارتی اور تکنیکی فریم ورک طے کیا جائے۔
میکرون نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کے لیے مؤثر اور واضح لائحہ عمل نہ بنایا گیا تو موجودہ صورتحال آئندہ چند ماہ یا چند سال میں دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی بھی مجوزہ فوجی کارروائی کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائی نہ صرف طویل اور پیچیدہ ہوگی بلکہ اس میں شامل افواج اور بحری اثاثے شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
فرانسیسی صدر کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے پاس جدید عسکری وسائل، بیلسٹک میزائلز اور مضبوط ساحلی دفاعی صلاحیت موجود ہے، جو کسی بھی فوجی آپریشن کو مزید مشکل اور خطرناک بنا دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق میکرون کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپی ممالک عمومی طور پر ایران کے جوہری مسئلے کے حل کو جنگ کے بجائے سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہی دیکھتے ہیں، تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
