بھارتی میڈیا میں پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت اور سفارتی حکمتِ عملی پر گفتگو شروع ہو گئی ہے، جہاں مختلف رپورٹس میں پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت اور عالمی روابط کو نمایاں طور پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔
بھارتی اخبار The Times of India کے مطابق سابق امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف نے دونوں ممالک کے تعلقات کے ذاتی اور سفارتی پہلو کو مزید نمایاں کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ بعض اہم رابطوں اور روابطی حکمتِ عملیوں کے باعث ممکن ہوا۔
اسی طرح بھارتی میڈیا ادارے NDTV کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی سفارتی رسائی اور ڈیجیٹل حکمتِ عملی کے پیچھے بلال بن ثاقب کا اہم کردار رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے 2025 کے دوران عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی سے وابستہ اہم شخصیات کے ساتھ روابط قائم کیے، جن میں Changpeng Zhao، Cathie Wood اور Michael Saylor جیسے نام شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلال بن ثاقب کو ٹرمپ سے منسلک کرپٹو منصوبے World Liberty Financial میں بطور مشیر بھی شامل کیا گیا، جسے پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور مالیاتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ان روابط کے ذریعے پاکستان نے مبینہ طور پر کرپٹو ڈپلومیسی کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی سطح پر اعتماد سازی کو فروغ دیا۔
ماہرین کے مطابق کرپٹو اور ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں اس نوعیت کی سفارتی پیش رفت نہ صرف معاشی روابط کو مضبوط کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ممالک کے درمیان اثر و رسوخ بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم ان رپورٹس کے حوالے سے مکمل اور آزاد تصدیق ضروری ہے، کیونکہ یہ مختلف ذرائع اور میڈیا دعوؤں پر مبنی ہیں۔
