برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ مل گیا۔
رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے کی تجویز میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری شامل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم کرنے کے پلان پر آج ہی رضامندی ضروری ہے۔
مجوزہ منصوبے میں پہلے جنگ بندی اور پھر حتمی معاہدہ شامل ہے ۔ منصوبے پر اتفاق ہوگیا تو 20 دن میں حتمی معاہدہ طے پانے کی راہ ہموار ہوگی ۔ فوری طور پر جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق فیڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کیے۔
امن منصوبے کا خاکہ پاکستان نے تیار کیا جو دو مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں 15 سے 20 دن کے اندر ایک جامع معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ممکنہ معاہدے کو عارضی طور پر اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا گیا ہے۔ حتمی مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معاہدہ طے ہونے کی صورت میں ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوکر اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرے گا۔ بدلے میں ایران پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں گی اور منجمد اثاثے بحال ہونگے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے لیے ایک علاقائی فریم ورک بھی شامل ہوگا۔
سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی تجاویز کا مسودہ مل گیا ہے۔ مسودے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایران فیصلے کیلئے کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ہمیں لگتا ہے کہ امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے، تہران عارضی جنگ بندی کیلئے آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا۔
