ایران نے امریکی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزر نے کی مشروط اجازت دے دی

Iran gives conditional permission to US ships to pass through Strait of Hormuz

 

ایران کے نائب وزیر خارجہ Saeed Khatibzadeh نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی Strait of Hormuz سے گزر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی قسم کی دشمنی پر مبنی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔

BBC Persian کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہوئی ہے، لیکن جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایرانی افواج کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ تکنیکی اور سیکیورٹی معاملات کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایرانی نائب وزیر کے مطابق ایران اپنے مقرر کردہ محفوظ راستوں کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنائے گا اور سیکیورٹی کی نگرانی جاری رکھے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے معاملے میں طے شدہ اصولوں کے مطابق رویہ اختیار نہیں کر رہا۔

دوسری جانب Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) نے بحری جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سمندری سیکیورٹی اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور ممکنہ خطرات، خصوصاً بارودی سرنگوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔

جاری کردہ نقشے کے مطابق بحیرہ عمان سے داخل ہونے والے جہاز Larak Island کے شمالی راستے سے خلیج فارس میں داخل ہو سکتے ہیں، جبکہ واپسی پر جنوبی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی توانائی سپلائی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین تیل اور گیس گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں کسی بھی رکاوٹ کے اثرات عالمی معیشت پر فوری طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے