اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہی ہوں گے اور کسی دوسرے ملک میں نہیں کیے جائیں گے، کیونکہ تہران اسلام آباد پر اعتماد کرتا ہے جبکہ واشنگٹن کو قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتا۔
اسلام آباد میں Policy Research Institute of Islamabad کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران نے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مذاکرات کا مقام پاکستان ہی ہوگا اور اس حوالے سے ایران کا مؤقف واضح ہے۔
رضا امیری مقدم نے پاکستان کے سفارتی کردار اور امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ناقابلِ اعتماد ملک ہے اور ماضی میں مذاکرات کے دوران اچانک حملوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق ایران نے 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ کا سامنا کیا ہے اور گزشتہ 47 برسوں سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم ہے۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، جبکہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حوالے سے کسی قسم کے خلاف ورزی کے شواہد پیش نہیں کیے گئے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹس بھی ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تصدیق کرتی ہیں۔
انہوں نے اسرائیل پر خطے میں بالادستی کی خواہش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کی حمایت کر رہا ہے، تاہم جانی و مالی نقصانات کے باوجود ایرانی قوم متحد اور مضبوط ہے اور اپنی پوزیشن پر قائم رہے گی۔
