افغانستان سے امریکی انخلا کی تحقیقات میں بڑی پیش رفت، پینٹاگون کا 90 لاکھ دستاویزات کا جائزہ مکمل

Major progress in investigation into US withdrawal from Afghanistan, Pentagon completes review of 9 million documents

واشنگٹن  — امریکی محکمہ جنگ (پینٹاگون) نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے حوالے سے جاری اعلیٰ سطحی تحقیقات کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ تحقیقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر شروع کی گئی تھیں جن کا مقصد 2021 کے انخلا کے دوران ہونے والی مبینہ غلطیوں اور فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لینا ہے۔

تحقیقات کا دائرہ کار

پینٹاگون کے مطابق خصوصی تحقیقاتی پینل نے:

  • تمام اعلیٰ فوجی اور سول رہنماؤں کے انٹرویوز مکمل کر لیے ہیں
  • تقریباً 90 لاکھ (9 million) دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے
  • انخلا کے پورے آپریشنل اور پالیسی فریم ورک کا تجزیہ کیا ہے

حکام کے مطابق یہ عمل امریکی تاریخ کے بڑے اندرونی عسکری جائزوں میں سے ایک ہے۔

رپورٹ کا مقصد

امریکی محکمہ جنگ نے کہا ہے کہ اس تحقیقات کا بنیادی مقصد:

  • انخلا کے دوران ہونے والی ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی
  • فیصلہ سازی کے عمل کا تجزیہ
  • اور مستقبل میں اسی نوعیت کے آپریشنز کے لیے پالیسی اصلاحات تجویز کرنا ہے

پینٹاگون کے مطابق حتمی رپورٹ کو “جامع اور شفاف” بنایا جا رہا ہے تاکہ اسے امریکی عوام کے سامنے رکھا جا سکے۔

حتمی رپورٹ کب جاری ہوگی؟

محکمہ جنگ کے مطابق حتمی رپورٹ آئندہ چند ماہ میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر ان پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا:

  • انخلا کے دوران سیکیورٹی صورتحال
  • کابل ایئرپورٹ آپریشن
  • طالبان کے کنٹرول کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال
  • اور امریکی اتحادیوں کے انخلا کے انتظامات

پس منظر

یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران کابل میں شدید افراتفری، سیکیورٹی بحران اور انخلا کے انتظامی مسائل سامنے آئے تھے۔ ان واقعات پر امریکا میں طویل عرصے سے سیاسی اور عسکری سطح پر بحث جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے بعد ازاں اس پورے عمل کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اسے “پالیسی اور انٹیلی جنس ناکامیوں کا جائزہ” قرار دیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے