جنگ بندی میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین، خطے میں امن کیلئے اتحاد ناگزیر: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد شہری وطن کی خاطرجانیں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، ایرانی صدر

تہران — ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ایک بار پھر اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا ہے، اور اسے خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان نے ثالثی کے عمل میں مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی میزبانی پر بھی پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

صدر پزشکیان نے اس موقع پر شہباز شریف اور پاکستانی عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سفارتی کاوشوں نے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے حالیہ دنوں میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا دفاعی ضرورت کے تحت تھا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے پسِ پردہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں کارفرما ہیں، جو اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا چاہتی ہیں۔

مسعود پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی دنیا کو اتحاد اور باہمی تعاون کے ذریعے ایسے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر خطہ مسلسل عدم استحکام اور جنگ کے خطرے سے دوچار رہے گا۔

ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کو ’’غیر قانونی جارحیت‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ان حملوں کی کیا قانونی حیثیت ہے، جن میں شہری تنصیبات، تعلیمی ادارے اور طبی مراکز متاثر ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے