Taliban کے بااثر رہنما Mullah Abdul Qayyum Zakir (Mullah Mutasim Agha Jan) کی حالیہ گرفتاری اور بعد ازاں رہائی نے تنظیم کے اندرونی اختلافات اور طاقت کی کشمکش کو نمایاں کر دیا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ طالبان قیادت کے ڈھانچے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں مختلف دھڑوں کے درمیان اعتماد کا فقدان واضح ہو رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملا معتصم کو Hibatullah Akhundzada کے براہِ راست احکامات پر ایک خصوصی یونٹ نے حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے طالبان رہنما Mullah Abdul Ghani Baradar کے خلاف سخت ریمارکس دیے اور تنظیم کے اندر تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔
مزید رپورٹس کے مطابق ان پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے حامی گروپ کو مسلح کرنے میں ملوث رہے ہیں، جس کے بعد طالبان حکام نے کابل اور قندھار میں ان سے منسلک افراد کے گھروں پر چھاپے مارے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی قیادت نے ابتدا میں گرفتاری کی تردید کی، تاہم بعد میں اسے ایک کمانڈر کی “غلط فہمی” قرار دیا گیا۔ بعد ازاں Haqqani Network کی مداخلت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا، جسے اندرونی مفاہمت کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
