بیلجیئم میں مقیم ایرانی شہریوں نے سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے، ان پر ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی اقدامات کی حمایت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
ادھر جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک واقعے کے دوران رضا پہلوی پر ایک سماجی کارکن نے سرخ رنگ پھینک دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ فیڈرل پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد سیکیورٹی حصار میں اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق ایک شخص ان کے قریب آیا اور سرخ مائع ان پر پھینک دیا، جو ان کی گردن اور کندھوں پر گرا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا، جبکہ رضا پہلوی کو سیکیورٹی کے تحت وہاں سے روانہ کر دیا گیا۔
واقعے کے دوران موجود مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے رضا پہلوی کو ایرانی عوام کا “غدار” قرار دیا اور کہا کہ بیرونی حملوں کی حمایت کرنے والے افراد عوامی نمائندگی کے اہل نہیں ہو سکتے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب رضا پہلوی نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد موجودہ ایرانی حکومت کے ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے، جسے انہوں نے ایرانی عوام کے مطالبات سے جوڑا۔
