اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نے زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے اور ایران و امریکا کشیدگی میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فو کونگ نے کہا کہ ایران جنگ میں سیز فائر برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اگر سمندری گزرگاہ کی بندش جاری رہی تو یہ معاملہ جلد ہی عالمی سطح پر بڑے سفارتی ایجنڈے کا حصہ بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر عائد پابندیاں ختم کرنی چاہئیں جبکہ امریکا کو اپنا بحری محاصرہ ختم کرنا ہوگا، تاکہ خطے میں تجارتی اور توانائی کی ترسیل بحال ہو سکے۔
چینی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی عارضی ثابت ہوئی اور دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو اس کے عالمی معیشت اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ متحرک ہو کر کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔
فو کونگ نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ چین کے دوران، اگر آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ دو طرفہ مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔
انہوں نے بعض امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین اور ایران کے درمیان فوجی تعاون سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں۔
مزید برآں، انہوں نے اعلان کیا کہ وانگ ای 26 مئی 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے، جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
