صدر ٹرمپ کا ایران کے بعد کیوبا کو نیا ہدف قرار دیتے ہوئے بحری تعیناتی کا اشارہ دے دیا

امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، “فوجی اہداف جلد حاصل کرلیں گے”

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کے بعد کیوبا کو اپنی خارجہ و عسکری پالیسی کا نیا ممکنہ ہدف قرار دیتے ہوئے خطے میں نئی کشیدگی کی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔

فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ صورتحال کے بعد امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جنگی جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی عسکری موجودگی کیوبا پر دباؤ بڑھا کر اسے “خود ہی ہتھیار ڈالنے” پر مجبور کر سکتی ہے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر ایسا اقدام کیا گیا تو امریکا کیوبا کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے، اور یہ عمل ان کے بقول “جلد ممکن” ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ یہ حکمت عملی ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے تسلسل میں ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے کیوبا پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور ان سے وابستہ افراد و اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات بدعنوانی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تناظر میں کیے گئے ہیں۔

مزید برآں امریکا نے اشارہ دیا ہے کہ کیوبا کے توانائی، دفاع، مالیاتی خدمات، دھاتوں اور کان کنی جیسے شعبوں میں سرگرم غیر ملکی اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جس سے عالمی کاروباری حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے