عارف لوہار کی جذباتی گفتگو: والد عالم لوہار کی وراثت پر فخر اور محبت کا اظہار

Arif Lohar's emotional speech: Expressing pride and love for the legacy of his father, Alam Lohar

معروف پنجابی فوک گلوکار Arif Lohar نے ایک حالیہ یوٹیوب پوڈکاسٹ میں اپنے والد اور لیجنڈری فنکار Alam Lohar کی زندگی، فن اور اپنی ذاتی وابستگی پر کھل کر گفتگو کی ہے۔

انٹرویو میں عارف لوہار نے کہا کہ فوک موسیقی دراصل پنجاب کی مٹی سے جنم لینے والی ایک فطری آواز ہے، جو کسی تربیت سے زیادہ احساس اور وراثت پر منحصر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ان کے والد ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی پہچان ابتدا میں Saif-ul-Malook کی پیشکش سے بنی، جس کے بعد وہ آہستہ آہستہ عوامی محفلوں سے لے کر بڑے اسٹیج تک پہنچے۔

عارف لوہار نے کہا کہ ان کے والد ان فنکاروں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی زندگی میں ایک لازوال پہچان چھوڑی، اور وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے عظیم فنکار کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد ہمیشہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور احترام کا درس دیتے تھے اور کسی کا دل نہ دکھانے کی تلقین کرتے تھے۔

اپنے خاندانی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے عارف لوہار نے بتایا کہ ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد تعلیم یافتہ اور مختلف پیشوں سے وابستہ ہیں، جن میں ڈاکٹرز اور ایک انجینئر بھی شامل ہیں، جبکہ زیادہ تر اہل خانہ بیرونِ ملک مقیم ہیں، تاہم ان کا رجحان ہمیشہ موسیقی اور اپنے والد کے ساتھ وابستگی کی طرف رہا۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ آج بھی وہ اپنے والد کی یادوں کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں اور جب لوگ انہیں “عالم لوہار کا بیٹا” کہہ کر پکارتے ہیں تو یہ ان کے لیے فخر اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔

عارف لوہار کی یہ گفتگو نہ صرف ان کے خاندانی ورثے کو اجاگر کرتی ہے بلکہ پنجابی فوک موسیقی کی اس روایت کو بھی نمایاں کرتی ہے جس نے نسل در نسل اپنی شناخت برقرار رکھی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے